ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہم کسی پارٹی کو نہیں تنظیم کو ووٹ دے رہے ہیں: بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کی انتخابات کے سلسلے میں اہم میٹنگ

ہم کسی پارٹی کو نہیں تنظیم کو ووٹ دے رہے ہیں: بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کی انتخابات کے سلسلے میں اہم میٹنگ

Sat, 05 May 2018 20:56:28    S.O. News Service

بھٹکل 6/مئی (ایس او نیوز)مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کی طرف سے حالیہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر لئے گئے فیصلے کو مکمل طورپر نافذ کرنے کے لئے بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے زیرا ہتمام فیڈریشن سےمنسلک تمام اسپورٹس سنٹروں کے ذمہ داروں کےساتھ ایک اہم نشست جمعہ کی شب تنظیم ہال میں منعقد ہوئی ۔

نشست کا آغاز مولوی عبدالحسیب منا کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ فیڈریشن کےجنرل سکریٹری محمد نصیف خلیفہ نے استقبال کیا۔سیاسی پینل کے کنونیر مولوی عبدالرقیب ایم جے نے افتتاحی کلمات کے طورپرتنظیم کی طرف سے اسمبلی انتخابات کے سلسلےمیں لئے گئے فیصلے کےمتعلق گفتگو کی۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری نے انتخابات کے دوران فیڈریشن کی ذمہ داری ، نگرانی اور دیگر کاموں پر تفصیل سےروشنی ڈالی۔ مولوی ایس ایم عرفان ندوی نے میٹنگ کی صدارت کی۔

میٹنگ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سےجامعہ مسجد بھٹکل کے خطیب و امام مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے پرمغز و جامع خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا اعتماد و یقین اللہ پرہونا چاہئے،اللہ نے ہمیں جو صلاحیت، ذہنی لیاقت ،قابلیت،استعداد دی ہے اس کو لےکر اللہ پر توکل کرتےہوئے آگے بڑھیں گے تو اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور ہم ترقی کرسکتےہیں، اللہ پر کامل یقین اور توکل پھر ہماری محنت و کوشش سے ہماری ترقی ہوگی ، کسی پارٹی پر اعتماد کرتےبیٹھے رہیں گے تو ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ ہم جس علاقے میں رہتےہیں اس کا مزاج ہمیشہ اجتماعیت کا رہاہے۔ ہمارے اداروں اور عہدیداروں میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں اس کا علاج کرنے کے بجائے ادارے کوچھوڑنا عقل مندوں کی علامت نہیں ہے۔ ان اداروں کی برکت ہے کہ ہماری طاقت محسوس کی جاتی ہے، اداروں کی بدولت ہی ہماری عزت و احترام سب کچھ اسی سے ہے۔ جس دن ہمارا تعلق ان اداروں سے ٹوٹ جائےگا اسی دن ہماری حیثیت دو کوڑی کی نہیں ہوگی۔ جن مقامات پر تنظیم جیسا اجتماعی ادارہ نہیں ہے وہاں مسلمان تقسیم ہیں،ملت کو نقصان ہورہاہے۔

مولانا نے کہاکہ انتخاب میں جیت حاصل کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ اتحاد کو باقی رکھنا ہمارا اصل مقصد ہے۔ اگر ہم نے تنظیم کے فیصلے پر متحد ہوکر عمل کیا تو ہار بھی گئے تو درا صل ہماری جیت ہے۔اگر ہم نے تنظیم کے فیصلے کے خلاف ہماری مرضی کو استعمال کیااور ہمارے ووٹ دئیے ہوئے امیدوار یا پارٹی جیت بھی گئی تو ہم ہارگئے۔ ہمارا ہزار سالہ اتحاد ٹوٹ گیاکیونکہ انتخابی بخار ایک مہینہ رہے گا آتا جاتا رہے گا۔ ہمارے اداروں کا وقار باقی رہے ، اس پر ہماری نظر ہو۔ تمام پارٹیاں ایک جیسی ہیں، سب کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ہم کسی پارٹی کو نہیں بلکہ ہمارے ادارے کو ووٹ دے رہے ہیں، ہم تنظیم کو ووٹ دے رہے ہیں۔ انشاء اللہ ہم کامیاب ہیں۔ قرآن و شریعت ہمیں وفاداری کی تعلیم دیتے ہیں، بے وفائی ہم کبھی نہیں کرسکتے۔ مسلمان کو کوئی پارٹی پیسہ سے خرید نہیں سکتی تھی۔ لیکن آج پیسوں کی خاطر ملت سے غداری کریں ایک مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔ سیاست ہو کوئی اور میدان ، اسلام کی روشنی میں دیکھیں۔اگر ہم حالات کی تبدیلی چاہتے ہیں تو سیاسی جماعتوں سے زیادہ اپنے عمل میں تبدیلی لائیں، دعا کرتے رہئے اللہ فیصلہ بدلے گا۔اعزازی مہمان کے طورپر عتیق الرحمن منیری ،ایس ایم سید احمد پرویز اور قمر سعدا نےاپنے خیالات کااظہار کیا۔

 


Share: